بے سمت مسافر ہیں ابھی جھول رہے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاطوفانوں میں منزل کی خبر بھول رہے ہیں
بے سمت مسافر ہیں ابھی جھول رہے ہیں
دنیا کے خرابوں کا اثر ان پہ نہ ہو گا
جو گردشِ حالات کا معمول رہے ہیں
اس عمر کے چہرے سے یہ جالے تو ہٹا دو
جو وقت کے خاروں میں کبھی پھول رہے ہیں
ہم جن کی نگاہوں میں پڑھا کرتے تھے قصے
وہ صورتِ احوال میں مشغول رہے ہیں
کیا بات ہے وہ امن کا پیغام ہیں لائے
جن ہاتھوں میں بھی ظلم کے تِرسول رہے ہیں
جس شہرِ تمنا کو بسایا تو نے وشؔمہ
اس راہ کی ہم بھی تو کبھی دھول رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






