بے وفا میں بھی نہیں اور تو بھی ہرجائی نہیں
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaبے وفا میں بھی نہیں اور تو بھی ہرجائی نہیں
آج بھی چاہت اگرچہ ہونٹ تک آئی نہیں
اس کا جوبن تیر بن کر دل پہ اترا ہے مگر
پھر بھی ان سے اپنی چاہت میں نے جتلائی نہیں
کیوں نہیں خوشبو صباء کے ہاتھ میں جانِ جگر
آج زلفِ عنبریں لگتا ہے لہرائی نہیں
آگئی شہرِ غضنفر میں جو بے خوف و خطر
کیوں ہرن بھی اس شہر میں آن گھبرائی نہیں
عشق میں خنجر اٹھا اور عشق پر چلنے لگا
کیوں خدارا ذہن سے یہ بات ٹکرائی نہیں
ہر کس و ناکس بلندی پیار کی پاتا نہیں
تحفہ ء قدرت ہے جانوں پیار رسوائی نہیں
داو پر جس کے لئے میں نے لگا دی ہر خوشی
جعفری میری تو اس نے بھی قدر پائی نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






