یاد آ گئی وہ بات تھے زنجیر پاؤں کی
Poet: zaigham jaffery By: zaigham jaffery, Daskaیاد آ گئی وہ بات تھے زنجیر پاؤں کی
گزرے وہ دن وہ رات تھے زنجیر پاؤں کی
ان کے یہاں خاموش تھے قلم و زبان ہی
بحرِ تکلفات تھے زنجیر پاؤں کی
دہلیز ان کی چھوڑ کے آتے بھی کس طرح
حرفِ سفارشات تھے زنجیر پاؤں کی
ان سے جو دل کی بات بھی کھل کر نہ ہو سکی
دراصل کچھ حالات تھے زنجیر پاؤں کی
میں ہر گھڑی جو شعر و سخن سے جڑا رہا
ضیغم تخیلات تھے زنجیر پاؤں کی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






