بے وفا کا یارو کوئی بھروسہ نہیں ہوتا
Poet: Ali Rasikh By: Mahira Akmal, LAHOREبے وفا کا یارو کوئی بھروسہ نہیں ہوتا
اک بار جو سوکھ جائے شجر وہ ہرا نہیں ہوتا
جو سوچ سوچ کے تھک جائیں وہ ہوتا نہیں
کبھی وہ بھی ہو جاتا ہے جو سوچا نہیں ہوتا
معجزہ ہونا بھی کسی معجزے سے کم نہیں ہے
اس دور میں تو اب کوئی معجزہ نہیں ہوتا
رہتی ہے یاد تیری سدا ساتھ میرے
میں تنہائی میں بھی اب اکیلا نہیں ہوتا
یہ پیار، محبت ، خلوص ، وفا ، کچھ بھی نہیں
وقت آنے پہ راسخَ کوئی کسی کا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






