میری بانہیں تیری بانہوں میں لچکنا چاہیں
Poet: Sharaf Siddiqui By: Faisal Mahmood, Karachiمیری بانہیں تیری بانہوں میں لچکنا چاہیں
میری سانسیں تیری سانسوں میں الجھنا چاہیں
دیکھ مرجھائے نہ شاخِ تمنا جاناں
اس پہ کلیاں ابھی کچھ اور مہکنا چاہیں
یوں گزرنے کو شبِ ہجر گزر جائے گی
عادتا آنکھیں تیری راہ کو تکنا چاہیں
لغزشیں ہیں کہ میرے ساتھ چلی آتی ہیں
ہم تو ہر گام میری جان سنبھلنا چاہیں
ہاں وہ موہوم سہی ، اپنا ہے رشتہ اُن سے
یہ الگ بات “شرف“ اب نہ وہ ملنا چاہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






