بے چہرہ زندگی تھی یہ خوابوں کے درمیاں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامجھ کو تمہارے عشق نے بیدار کر دیا
جب زندگی کی سیج کو گلنار کر دیا
اب زندگی اٹھا کے اڑوں آسماں تلک
گلشن کی سب ہواؤں کو مہکار کر دیا
دیکھے ہیں جتنے آدمی راہِ حیات میں
سب کو ہی میں نے پیار کی گفتار کر دیا
بے چہرہ زندگی تھی یہ خوابوں کے درمیاں
کس نے ادائے ناز سے شہکار کر دیا
ہم کو تمہارے پیار میں اتنے ہیں غم ملے
اس بے کنار ذات کو لاچار کر دیا
تنہائیاں ہی بخش کے مجھ کو تمام عمر
کیوں میرے ساتھ زیست کو دشوار کر دیا
جب اُس نے میرے درد کو سمجھا نہیں کبھی
پھر میں نے بھی تو پیار سے انکار کر دیا
مر جائیں تیرے بعد وہ تو دن نہیں رہے
یوں زندگی کا راستہ دشوار کر دیا
سب چھوڑ کے جو کر لی خزاؤں سے دوستی
مجھ کو تمہارے عشق نے بیمار کر دیا
اب ٹوٹنے نہ پائے یہ بھی پیار کا محل
جب نفرتوں کے نام کو بھی پیار کر دیا
سہما ہوا ہے دشمنِ جاں وشمہ دیکھئے
ناکامیوں کے بعد بھی یہ وار کر دیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






