بے چہرہ زندگی تھی یہ خوابوں کے درمیاں

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

مجھ کو تمہارے عشق نے بیدار کر دیا
جب زندگی کی سیج کو گلنار کر دیا

اب زندگی اٹھا کے اڑوں آسماں تلک
گلشن کی سب ہواؤں کو مہکار کر دیا

دیکھے ہیں جتنے آدمی راہِ حیات میں
سب کو ہی میں نے پیار کی گفتار کر دیا

بے چہرہ زندگی تھی یہ خوابوں کے درمیاں
کس نے ادائے ناز سے شہکار کر دیا

ہم کو تمہارے پیار میں اتنے ہیں غم ملے
اس بے کنار ذات کو لاچار کر دیا

تنہائیاں ہی بخش کے مجھ کو تمام عمر
کیوں میرے ساتھ زیست کو دشوار کر دیا

جب اُس نے میرے درد کو سمجھا نہیں کبھی
پھر میں نے بھی تو پیار سے انکار کر دیا

مر جائیں تیرے بعد وہ تو دن نہیں رہے
یوں زندگی کا راستہ دشوار کر دیا

سب چھوڑ کے جو کر لی خزاؤں سے دوستی
مجھ کو تمہارے عشق نے بیمار کر دیا

اب ٹوٹنے نہ پائے یہ بھی پیار کا محل
جب نفرتوں کے نام کو بھی پیار کر دیا

سہما ہوا ہے دشمنِ جاں وشمہ دیکھئے
ناکامیوں کے بعد بھی یہ وار کر دیا

Rate it:
Views: 373
26 Dec, 2016
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL