بے چہرہ زندگی تھی یہ خوابوں کے درمیاں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامجھ کو تمہارے عشق نے بیدار کر دیا
جب زندگی کی سیج کو گلنار کر دیا
اب زندگی اٹھا کے اڑوں آسماں تلک
گلشن کی سب ہواؤں کو مہکار کر دیا
دیکھے ہیں جتنے آدمی راہِ حیات میں
سب کو ہی میں نے پیار کی گفتار کر دیا
بے چہرہ زندگی تھی یہ خوابوں کے درمیاں
کس نے ادائے ناز سے شہکار کر دیا
ہم کو تمہارے پیار میں اتنے ہیں غم ملے
اس بے کنار ذات کو لاچار کر دیا
تنہائیاں ہی بخش کے مجھ کو تمام عمر
کیوں میرے ساتھ زیست کو دشوار کر دیا
جب اُس نے میرے درد کو سمجھا نہیں کبھی
پھر میں نے بھی تو پیار سے انکار کر دیا
مر جائیں تیرے بعد وہ تو دن نہیں رہے
یوں زندگی کا راستہ دشوار کر دیا
سب چھوڑ کے جو کر لی خزاؤں سے دوستی
مجھ کو تمہارے عشق نے بیمار کر دیا
اب ٹوٹنے نہ پائے یہ بھی پیار کا محل
جب نفرتوں کے نام کو بھی پیار کر دیا
سہما ہوا ہے دشمنِ جاں وشمہ دیکھئے
ناکامیوں کے بعد بھی یہ وار کر دیا
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






