بےحد ضروری سمجھ کے(٣)

Poet: SAVERA By: M.ASGHAR MIRPURI, BIRMINGHAM

پابند سلاسل وہ رہےاورہم پابہ زنجیر
سمجھوتہ آخرہو گیاحالات کی مجبوری سمجھ کے

برسوں سےوہ تو ہمیں سمجھاتےآئےتھےلیکن
ہم کو بھی سمجھ آگئی ان کی معذوری سمجھ کے

ہے سچ کےآنکھ اوجھل تو پہاڑ بھی اوجھل
ہم بھی ہوئے دوردلوں کی دوری سمجھ کے

ہجراں نصیب کوبھلا کیا ہے دید سےکام
وہ تو ہجر کا طوق پہنےہےمہجوری سمجھ کے

وہ خودکو سارے جہاں کا شاعراعظم سمجھتےرہے
ہم نےانکو چھوڑ دیا ان کی مغروری سمجھ کے

اب کیافکر اس کہانی کی جس کا کوئی نہ انجام ہے
ہم نےبھی پڑھنا چھوڑدیا اسےادھوری سمجھ کے

اب کہتےہیں اوہ جانےوالےذرا پلٹ کےدیکھنا
پلٹےجوہم تو پتھر سےنہ ہوجاہیں جی حضوری سمجھ کے

اک دن سال کااصغر کا بھی اچھا گزرجائے گا
یہی سوچ کر بھیجاہے کارڈ ضروری سمجھ کے

Rate it:
Views: 729
06 Jul, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL