بےنام مسافر
Poet: Faiza Umair By: Faiza Umair, Lahoreرفتہ رفتہ وہ شخص میرے دل سے اُترتا ہی چلا گیا
وہ جو ایک طلسم تھا محبت کا، ٹوٹتاہی چلا گیا
وہ تھا انا کا ساقی، اپنی ہی ذات میں مدغم
خودی کا جام پی لر وہ اپنی ذات سے مجھے تفریق کرتا ہی چلا گیا
وہ شخص جو کبھی محبت کا خدا ہوا کرتا تھا
رفتہ رفتہ وہ محبت سے منکر ہوتا ہی چلا گیا
بے باک لہجہ، الفاظ کے تیر، نفرت کے سے تیور
رفتہ رفتہ وہ بے مہار صیاد بنتا ہی چلا گیا
وقعت ہی نہ رہی محبت کی اُس شخص کے سامنے
رفتہ رفتہ وہ مجھے بے مول ٹھہراتا ہی چلا گیا
میں تو قائل ہوں محبت کی، اُسے دل سے نہ کر سکی جدا
رفتہ رفتہ شدت عشق جڑ پکڑتا ہی چلا گیا
میں تو ہوں ناکام مسافر جسے ساتھ چلتے ہی جانا تھا
رفتہ رفتہ وہ مجھے بے نام منزل سے آشنا کرتا ہی چلا گیا
بدرجئہ اتم مایوسی و تنہائ نے گھیر لیا آخر “فائز“
رفتہ رفتہ فرشتہ اجل روح میری پرواز کرتا ہی چلا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






