کتنے دلکش تیرے انداز ہوئے جاتے ہیں
Poet: syed basharat By: syed basharat shah, karachiکتنے دلکش ترے انداز ہوئے جاتے ھیں
اور نیناں بھی دغا باز ہوئے جاتے ھیں
آپ جتنے بھی ستم مجھ پہ کیا کرتے ھو
وہ مرے واسطے اعزاز ہوئے جاتے ھیں
اب تو لازم ہے کوئی اور مسیحا ڈھونڈوں
میرے حاسد ترے ہمراز ہوئے جاتے ھیں
کسی مخلص کسی مفلس کا نہیں نام یہاں
اور جو ظالم ہیں وہ ممتاز ہوئے جاتے ھیں
تم نے کب کس کو منایا انہیں معلوم نہیں
یہ تو خوش فہم ہیں ناراض ہوئے جاتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






