تتیری آنکھوں میں بے رخی کر لی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاتیری آنکھوں میں بے رخی کر لی
تیرے ہونٹوں پہ جو ہنسی کر لی
جا چکا ہے وہ چاند سے آگے
پھر بھی وحشت میں خود کشی کر لی
اتنے بخشے تھے تم نے غم ہم کو
اپنی آہوں سے دل لگی کر لی
لڑ رہے ہیں سبھی ہواؤں سے
جن چراغوں میں روشنی کر لی
بات پہنچی نہیں رقیبوں تک
اپنی سب سے ہی دوستی کر لی
کیسے روشن ہو بزم جاں ، جاناں!
چشم زنداں میں تیرگی کر لی
مل کے لگتا ہے تم سے اے وشمہ
زندہ زندہ سی زندگی کر لی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






