تجھے رستہ سمجھتے ہیں، تجھے منزل سمجھتے ہیں

Poet: خلیلی قاسمی By: خلیلی قاسمی, India

تجھے رستہ سمجھتے ہیں، تجھے منزل سمجھتے ہیں
تجھے ہم ابتدا و انتہائے دل سمجھتے ہیں

جہاں کچھ بھی کہے لیکن ہمارا فیصلہ یہ ہے
تجھے ہم ہر طرح سے عشق کے قابل سمجھتے ہیں

ہماری بے خودی پر عقل کو بے حد تعجب ہے
تجھے محبوب کہتے ہیں تجھے قاتل سمجھتے ہیں

حیات و موت تیری ذات میں محصور کہتے ہیں
تجھے ورطہ سمجھتے ہیں، تجھے ساحل سمجھتے ہیں

محبت جس میں نہ ہو اس کو ہم ویرانہ کہتے ہیں
محبت جس میں بستی ہو اسے ہم دل سمجھتے ہیں

وہ غیرت اور خودداری جو جھکنے سے ہمیں روکے
تمہارے راستے کا اس کو ہم حائل سمجھتے ہیں

نہ ہی عاشق سمجھتے ہیں، نہ ہی شیدا سمجھتے ہیں
ترے دروازے کا خود کو فقط سائل سمجھتے ہیں

گزرتے ہیں جو لمحے تیری یادِ پاک میں جانم
اسی کو زندگی کا اپنی ہم حاصل سمجھتے ہیں

ہماری ایک اک رگ میں تمہارے جلوے ہیں پیوست
ذہن کو گھر ترا سینہ ترا محمل سمجھتے ہیں

ہمیں احساسِ تنہائی ستائے یہ نہیں ممکن
تمہاری یاد کو ہم جلوہٴ محفل سمجھتے ہیں

مری وحیٴ محبت پر نہ ہو جس شخص کا ایماں
خلیلی# اس کو ہم تکفیر کے قابل سمجھتے ہیں
 

Rate it:
Views: 540
31 May, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL