تجھے رو کے مناؤں

Poet: anam By: anam, karachi

توں مجھے غم دے اور میں مسکراؤں
تو اور بات ہے
عشق تیرے ستم جانتے ہوئے
خود کو آتش عشق میں جلاؤں
تو اور بات ہے
میری ساری وفاؤں کے صلے میں
توں مجھے جدائی انعام دے
اور میں ہس کے گلے سے لگاؤں
تو اور بات ہے
میں تجھے سوچوں چاہوں اور
دیکھنے پانے کی دعائیں مانگوں
توں آئے بن ملے چلا جائے
میں پھر بھی تجھ سے ربط بناؤں
تو اور بات ہے
ساری ساری رات تیرے انتظار میں جاگوں
سو جاؤں تو تیرا دیدار مانگوں
توں کبھی بھول سے پلٹ کر دیکھے
اور میں تیری راہ میں پلکیں بچھاؤں
میرا پیار پھر بھی نہ تجھ کو بھائے
تو اور بات ہے
تجھے رو کے مناؤں
تجھے مینتوں سے سمجھاؤں
میں غم سے نڈھال ہو جاؤں
اور توں میرے حال پر مسکرائے
تو اور بات ہے
تیری بےرخی سے مجھے کیں روگ لگ جائیں
تیرے انتظار میں میری سانسیں روک جائیں
اور میں ابدی نیند سو جاؤں
توں مجھے بھول جائے اور
میری قبر کے پاس سے گزر جائے
تو اور بات ہے
 

Rate it:
Views: 702
21 Jan, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL