تری تصویر

Poet: Fazlul Hasan By: F.H.Siddiqui, Lucknow

 دیکھتا ہوں تری تصویر تو رو دیتا ہوں
اپنی البم کے میں اوراق بھگو دیتا ہوں

چشم پر شوق تو تصویر سے ہٹتی ہی نہیں
ابروؤں کی تری شمشیر سے ہٹتی ہی نہیں
عزم و پیمان وفا ہیں ترے چہرے پہ رقم
آنکھ اس پیار کی تحریر سے ہٹتی ہی نہیں
پیکر عشق کو اشکوں میں ڈبو دیتا ہوں
اپنی البم کے میں اوراق بھگو دیتا ہوں

تیری آنکھوں سے چھلکتی ہے محبت کی شراب
ہے تری زلف سیہ تیرگی شب کا جواب
ہائے عارض کی شفق ہائے یہ ہونٹوں کے گلاب
تیری تصویر نہیں یہ تو ہے تصویر شباب

دیکھ کر میں بخدا ہوش بھی کھو دیتا ہوں
اپنی البم کے میں اوراق بھگو دیتا ہوں

تیری تصویر تری یاد دلا دیتی ہے
درد دل درد جگر اور بڑھا دیتی ہے
بیقراری شب فرقت کی بڑھا دیتی ہے
میرے سوئے ہوئے جذبات جگا دیتی ہے

رکھ کے سینے پہ میں تصویر کو رو دیتا ہوں
اپنی البم کے میں اوراق بھگو دیتا ہوں

ہمسفر بھی تمھیں رہبر تمھیں منزل ہو تمھیں
تم ہی ملکہ ہو مرے دل کی کوئی اور نہیں
سینکڑوں تم پہ میں قربان کروں ماہ جبیں
ساتھ دو تم تو زمانے کی بھی پرواہ نہیں

بات کر کے تری تصویر سے رو دیتا ہوں
اپنی البم کے میں اوراق بھگو دیتا ہوں

دیکھتا ہوں تری تصویر تو رو دیتا ہوں

Rate it:
Views: 603
24 Jun, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL