تری جب مہرباں یادیں ہوئی ہیں
Poet: چاند ککرالوی By: مصدق رفیق, Karachiتری جب مہرباں یادیں ہوئی ہیں
بہت ہی خوش نما راتیں ہوئی ہیں
ہواؤں سے بہت ڈرنے لگا ہوں
گھنی جب سے مری شاخیں ہوئی ہیں
وہ جس دن سے ہوا ہے دور مجھ سے
مری اس سے بہت باتیں ہوئی ہیں
انہیں پر جی رہے ہیں ہم ابھی تک
جو خوابوں میں ملاقاتیں ہوئی ہیں
دھواں نکلا ہے تیری کھڑکیوں سے
مگر پرنم مری آنکھیں ہوئی ہیں
تری خوشبو فضا میں گھل گئی کیا
معطر کیوں مری سانسیں ہوئی ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






