پہلے تو اپنے آپ کو تجھ سا کرے کوئی
Poet: چاند ککرالوی By: مصدق رفیق, Karachiپہلے تو اپنے آپ کو تجھ سا کرے کوئی
پھر مجھ سے دوستی کا ارادہ کرے کوئی
حرکت دل و دماغ میں پیدا کرے کوئی
جو قوم مر چکی اسے زندہ کرے کوئی
سورج کے ساتھ ساتھ بدلتی ہیں اپنا رخ
پرچھائیوں پہ کیسے بھروسا کرے کوئی
خوشبو کی طرح بکھرا ہوا ہے فضاؤں میں
کیسے ترے وجود کو یکجا کرے کوئی
یہ بلب یہ چراغ مرے کام کے نہیں
کمرے میں مسکرا کے اجالا کرے کوئی
دل کا معاملہ تو ہے دل کا معاملہ
کب تک خود اپنے آپ سے جھگڑا کرے کوئی
بنیاد ہی کھسکنے لگے جب مکان کی
دیوار و در پہ کیسے بھروسا کرے کوئی
مجھ خاکسار کا بھلا ایسا کہاں نصیب
دو چار دن جو میری تمنا کرے کوئی
اے چاندؔ یہ عجوبہ تو ہونے سے اب رہا
آ کر ہمیں سمیٹے اکٹھا کرے کوئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






