تسکین لحد کی خاطر میں تیری محبت ساتھ لے کے جائوں گا

Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badin

تسکین لحد کی خاطر میں تیری محبت ساتھ لے کے جائوں گا
ﻣﺮﻭﮞ ﮔﺎ تو ﺗﯿﺮﯼ ﺗﺼﻮﯾﺮﯾﮟ ﺗﯿﺮﮮ ﺧﻂ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ

تیری تاریک راتوں کا چراغ ہوں جلتا رہونگا یونہی
تجھے یہ ڈر کے بچھڑا تو رفاقت ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ

میں صدیوں کی بھوک کو لمحوں میں بانٹ لونگا
میں جو بھوکے پیٹ سوتا ہوں یہ عادت ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ

عذاب جہنم سے بڑھ کر بھی ایک سزا اور ہے جاناں
تیرے پہلو سے رخصت ہو کے اپنی عقوبت ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ

تم احسن اداس نہ ہو وہاں اذیت ہجر نہیں ہوتی
میں وصل، ہجر، ربط و روابط ﺳﺎﺗﮫ ﻟﮯ کے ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ

Rate it:
Views: 726
29 Aug, 2019
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL