تلخ ایام میں تھوڑا سا جو مسکراتے هیں

Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب, پاکستان

تلخ ایام میں تھوڑا سا جو مسکراتے ہیں
تمہارے ساتھ میں خود کو ہم جینا سکھاتے ہیں

بڑے طریقے ہیں ان کو آزمانے کے
بڑے سلیقے سے ہمیں وہ آزماتے ہیں

قرطاس ء دل پہ لکھتے ہیں بڑے شوق سے
بڑے ذوق سے پرزے پھر ہواؤں میں اڑاتے ہیں

وہ جو ہیں بکھرے سے روٹھے اور اجڑے سے
گزر کر جاں سے اپنا پاس ء وفا نبھاتے ہیں

کئ طوفان رکھتے ہیں ہم خاموشی میں اپنی
کئ ساگر چپکے سے آنکھوں میں چھپاتے ہیں

تمہیں معلوم ہی کیا ہیں حالات اداس لوگوں کے
آؤ آج تمہیں ہم سب کچھ بتاتے ہیں

آنکھیں بے خواب رہتی ہیں لفظ بے آواز رہتے ہیں
دل حساس ہو جائیں تو خود کو خود ستاتے ہیں

بہت ہی خوبصورت ہے عنبر جزبہ محبت کا
نجانے لوگ کیوں خود کو نفرت میں جلاتے ہیں

Rate it:
Views: 888
05 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL