تم اکثر بھول جاتی ہو
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتم اکثر بھول جاتی ہو
کہ اپنے درمیاں جاناں
سمندر ہیں زمانے کے
اناؤں کی دیواریں ہیں
انہیں کیسے مٹائیں گے
کبھی سوچا بھی ہے تو نے؟
کبھی سمجھا بھی ہے تو نے؟
کہ دنیا کی یہی رسمیں
محبت کرنے والوں کو
کبھی ملنے نہیں دیتیں
دلوں میںآرزوؤں کے
کنول کھلنے نہیں دیتیں
زخم خوردہ امنگوں کو
کبھی سلنے نہیں دیتیں
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ ان پابند راہوں سے
نہ میں باغی نہ تو باغی
زمانےکے رویوں سے
گزرتے پل کے پہیوں سے
نہ میں باغی نہ تو باغی
تم اکثر بھول جاتی ہو
جنوں کے جوگ ہوتے ہیں
ہزاروں روگ ہوتے ہیں
بکھرتے شادیانوں میں
سسکتے سوگ ہوتے ہیں
وہ آتے وقت کے لمحے
کئی خدشات میں لپٹے
کہ جب مجبوریاں اپنی
انہی رسموں میں بہہ جائیں
اور ہم تنہا ہی رہ جائیں
تم اکثر بھول جاتی ہو
کہ پھر ماضی کے یہ لمحے
تمہیں جب یاد آئیں گے
تو تم سر کو جھٹک دو گی
حسیں سا بچپنا کہہ کر
میرے وجدان میں اکثر
وہ لمحے آتے رہتے ہیں
مجھے آتے ہوئے کل کا
سماں دکھلا تے رہتے ہیں
تمہارے ساتھ ہو کر بھی
تیری آنکھوں میں کھو کر بھی
میں اکثر یاد رکھتا ہوں
تم اکثر بھول جاتی ہو
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






