تم اکثر بھول جاتے ہو.

Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, Haroon abad

ہمارے درمیاں جاناں
اک رشتہ ہے محبت کا
اک رشتہ ہے چاہت کا
حساس سب اداؤں کا
پیاس سب وفاؤں کا
دلکش نظاروں کا
بے لوس ہواؤں کا
تیری نگاہ سے میری مسکان کا
محبت کے ہر پاک جہان کا
پھر تم کیوں بھول جاتے ہو
جاناں!
یہ دنیا کی رسمیں
بے باک سب مسمیں
ہمیں ملنے نہ دے گیں
دم بھرنے نہ دے گیں
جاناں مت بھولا کرو
میری محبت کو
اپنی چاھت کو
اتنا کچھ بتانے کے بعد
حق یہ جتانے کے بعد
تم اکثر بھول جاتے ہو
اک لڑکی تمیں چاہتی ہے
تیرے ہر ستم پہ مرتی ہے
اس لڑکی کی پہلی چاہت ہے
دل لگانے کی پہلی محبت ہے
تم سے اس کو پیار ہے
تیرا صرف اس کو انتظار ہے
ہر پل، ہر لمحے
تیرے لیے مرتی ہے
تیرے لیے جیتی ہے
پھر کیوں تم بھول جاتے ہو
دنیا کے رنگ میں کھو جاتے ہو
اس جھوٹی وادی میں سو جاتے ہو
لڑکی کی نگاہ پیاسی ہے
تیرے نام کی داسی ہے
تم اکثر بھو ل جاتے ھو
تم کیوں بھول جاتے ہو
تم مجھے بھول جاتے ہو

Rate it:
Views: 830
14 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL