تم ستاروں جیسے ہو
Poet: rizwana By: rizwana, torontoتم ستاروں جیسے ہو
چمکتے رہتے ہو
تم پھولوں جیسے ہو
مہکتے رہتے ہو
تم چندا جیسے ہو
دور ہی رہتے ہو
تم دریاؤں جیسے ہو
اشکوں سا بہتے ہو
تم ہواؤں جیسے ہو
سانسوں میں رہتے ہو
تم ہیروں جیسے ہو
نایاب ہی رہتے ہو
تم موسموں جیسے ہو
بدلتے رہتے ہو
تم ستاروں جیسے ہو
چمکتے رہتے ہو
تم پھولوں جیسے ہو
مہکتے رہتے ہو
تم چندا جیسے ہو
دور ہی رہتے ہو
تم دریاؤں جیسے ہو
اشکوں سا بہتے ہو
تم ہواؤں جیسے ہو
سانسوں میں رہتے ہو
تم ہیروں جیسے ہو
نایاب ہی رہتے ہو
تم موسموں جیسے ہو
بدلتے رہتے ہو
تم دعاؤں جیسے ہو
لبوں پہ رہتے ہو
تم تمناؤں جیسے ہو
مچلتے رہتے ہو
تم بہاروں جیسے ہو
رنگوں میں رہتے ہو
تم خابوں جیسے ہو
آنکھوں میں رہتے ہو
تم دھڑکنوں جیسے ہو
دل میں رہتے ہو
تم وعدوں جیسے ہو
وفاؤں میں رہتے
تم عاشقوں جیسے ہو
حسیناؤں میں رہتے ہو
جاری ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






