ہے یقیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
Poet: Azharm By: Azharm, Dohaہے یقیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
میں کہیں ، ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
مجھ کو لے جا کے ہواؤں میں ہی ضائع کرنا
بر زمیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
ریزگی مجھ میں ہے جاری، تو ذرا دور رہو
گر قریں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
بد ترین روٹھ گیا تھا تو کہاں فرق پڑا؟
بہتریں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
درد اُٹھا تھا جو دشمن کو شکستہ دیکھا
ہم نشیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
آخری بار سمیٹا تھا تُجھے مر مر کے
پھر وہیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
تُجھ میں نفرت کی جوالا ہے بکھر جا اظہر
اب نہیں ٹوٹ کے بکھرا تو قیامت ہو گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






