تم سے بات ہوئی

Poet: Mobeen Nisar By: Mobeen Nisar, Islamabad

تم سے بات ہوئی
لوٹ گئی زندگی
ان گلیوں کی جانب
ان مکانوں کی جانب
جن کے نقشے اب
بدل گئے ہیں
جن کے نشاں اب
مٹ چکے ہیں
جہاں آرزوٴں نے جنم لیا تھا
تعبیروں سے بےپرواە
خوابوں نے جنم لیا تھا
جہاں ایک ہی چہرە کتاب تھا
عمر بھر کا نصاب تھا......
تمہاری نظروں سے
جب ٹکراتی تھیں نظریں
وە پل وە لمحہ
كتنا بے مثال تھا
دھڑکن رک جاتی تھی
زندگی ٹھہر جاتی تھی
اظہار_ تمنا کیلئے
الفاظ نہ ملتے تھے
دل مچلتا تھا
پر لب نہ ہلتے تھے
تمہارے کپڑوں کے
سبھی رنگ
یاد ہیں اب تک
اور
برش میں الجھے
سنہرے بال
میں اکثر چپکے سے
چھپا لیتا تھا
اب وقت بیت گیا ہے
تمارے بالوں کی رنگت
بھی بدل گئی ہے
مگر میں نے جو
سنبھال رکھے ہیں
وە بال اب بھی
"سنہرے ہیں"
میرے خوابوں کی طرح
جن کا تعبیروں سے
کوئی واسطہ نہیں

Rate it:
Views: 461
30 Nov, 2015
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL