کٹوتی ہے

Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہ

لکیریں بولتی ہیں اور زباں ریکھا کی ہوتی ہے
ملیں خوشیاں بہت کم اور پھر ان میں کٹوتی ہے

بتایا بھی کہ لوگوں سے نہ کر ہمدردیاں اتنی
کمر جھکتی چلی جائے جو بوجھ اوروں کا ڈھوتی ہے

گلاب اس کے حسیں رخسار سے رنگت چراتے ہیں
سحر انگیز آنکھوں میں فروزاں کوئی جوتی ہے

بہت بے ساختہ منظر نظر میں گھوم جاتے ہیں
تمہاری یاد پھر آنکھوں کو دھیرے سے بھگوتی ہے

بجھی ہے اس کی آنکھوں میں گئی شاموں کی سفّاکی
مرے دل کی زمیں پر ہجر کے جو بیج بوتی ہے

جنہیں رد کر چکے تھے ہم وہی ہیں راجدھانی پر
جہاں کی تھی یہ کھوتی پھر وہیں پر آ کھلوتی ہے

فرنگی بن کے بیٹھے ہیں، عجب ملبوس ان کے ہیں
بنیں جتنا بھی یہ بابو مگر پہچان دھوتی ہے

کسی مورت کی صورت وہ بسے ہے من کے مندر میں
جو میرے جاگنے پر جاگتی، سونے پہ سوتی ہے

رشیدؔ اک آرزو سینے میں ہے بے چین روحوں سی
مرے کاندھے پہ سر رکھ کر بلکتی ہے، جو روتی ہے

Rate it:
Views: 325
31 Oct, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL