کٹوتی ہے
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہلکیریں بولتی ہیں اور زباں ریکھا کی ہوتی ہے
ملیں خوشیاں بہت کم اور پھر ان میں کٹوتی ہے
بتایا بھی کہ لوگوں سے نہ کر ہمدردیاں اتنی
کمر جھکتی چلی جائے جو بوجھ اوروں کا ڈھوتی ہے
گلاب اس کے حسیں رخسار سے رنگت چراتے ہیں
سحر انگیز آنکھوں میں فروزاں کوئی جوتی ہے
بہت بے ساختہ منظر نظر میں گھوم جاتے ہیں
تمہاری یاد پھر آنکھوں کو دھیرے سے بھگوتی ہے
بجھی ہے اس کی آنکھوں میں گئی شاموں کی سفّاکی
مرے دل کی زمیں پر ہجر کے جو بیج بوتی ہے
جنہیں رد کر چکے تھے ہم وہی ہیں راجدھانی پر
جہاں کی تھی یہ کھوتی پھر وہیں پر آ کھلوتی ہے
فرنگی بن کے بیٹھے ہیں، عجب ملبوس ان کے ہیں
بنیں جتنا بھی یہ بابو مگر پہچان دھوتی ہے
کسی مورت کی صورت وہ بسے ہے من کے مندر میں
جو میرے جاگنے پر جاگتی، سونے پہ سوتی ہے
رشیدؔ اک آرزو سینے میں ہے بے چین روحوں سی
مرے کاندھے پہ سر رکھ کر بلکتی ہے، جو روتی ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






