تم  پری چہرا ھو  محو پرواز  ھو

Poet: ا ے ایس عارف By: ا ے ایس عارف , Mississauga

 مجھے راس کب آئی خوشبو پھولوں کی
خون میں گردش نہں رھی ھے بھنوروں کی

بھید کھل گئے ھیں سب زندگانی کے
حقیت عکس میں بدل گئی ھے سپنوں کی

جمع کرتے رھتے اعمال تو کچھ پا جاتے
کس نے دیکھی ھیں بہاریں حوروں کی

صبح کا وقت ھے ھمارہ بھی وقت ھوتا
شامل اڑان ھوتے ھم بھی پرندوں کی

سمیٹ لیتے کچھ وفائیں تو ممکن تھا
تم بات کرتے ھو کونسے بندھنوں کی

ہہ دور ھے بہت بے حس دلوں کا
داستانیں ھوئی پرانی چلمنوں کی

تم پری چہرا ھو محو پرواز ھو
کچھ باگیں سنبھال کر رکھتے کرموں کی

دنیا سے کیا خود سے نہیں بن پائی کبھی
شکایت کرتے ھیں کیا ھم دوسروں کی

وہ تو جاں سے گزرا تھا میری روح بن کر
اظہار کی سکت نہں رھی ھے لفظوں کی

یہاں اپنے ھی کرود ھ میں کوئی کھو جاتا ھے
اظہار کرتے ھو عارف کونسے جزبوں کی

 

Rate it:
Views: 519
16 Sep, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL