جو بھی ہوا بھول جاتے ہیں
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Gujranwala, Pakistan ; Nizwa, Omanکاش کہ جانیں کس کرب میں مبتلا ہیں
ہمارا دل بے وجہ جو جلاتے رہے ہیں
میرے پیار کی قدر وہ کیا جانیں
کانچ جان کر دل پر جو چوٹ لگاتے رہے ہیں
کہتے ہیں پہلے جیسے نہیں اب ہم بدل گئے ہیں
زمانے کو جو اپنا غلام بناتے رہے ہیں
مسکرانے کا کہیں جب بھی ملتے ہیں
ہمیں مسکراتا دیکھ جو منہ بناتے رہے ہیں
مجھ سے تعلق جوڑنے کی خواہش ہے انہیں
دامن جو مجھ سے ہمیشہ چھڑاتے رہے ہیں
بدل گیا ہے وقت چہرے بھی بدل گئے ہیں
مہربان ہیں اب صدا جو زخم لگاتے رہے ہیں
ممکن ہے رات ڈھل گئی ہو ان کے غرور کی
اوروں کو ہمیشہ نیچا جو دکھاتے رہے ہیں
میرے دل کا چمن اپنی بے رخی سے اجاڑ دیا
کھلانےکی خواہش ہے جن پھولوں کو خود کملاتے رہے ہیں
چلو جو بھی ہوا بھول جاتے ہیں تیرے سارے ستم
بس مٹا دو میرے دل پر لگے داغ خود ہی جو لگاتے رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






