تم کون ہو
Poet: UA By: UA, Lahoreتم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
اس دل نے یہ دل نے پکارا تھا
تم وہی ہو جس کیلئے دل دربدر آوارہ تھا
تمہارے سامنے آتے ہی
نظروں کو ملا نظارا تھا
تمہیں ملنے سے پہلے
آنکھوں میں عجب خمار تھا
آنکھوں کو کسی کا انتظار تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر بھی
نظر نے پکارا تھا
یہی وہ روپ سنہرا ہے
مدت سے دل میں جس کا بسیرا ہے
میرے دل کی بےترتیب دھڑکنوں میں
پنہاں اک خمار تھا کچھ سویا کچھ بیدار تھا
تم کون ہو کہ تمہیں دیکھ کر نظروں نے کہا
یہی ہے وہ کہ نظر کو جس کا انتظار تھا
آنکھوں میں لہراتے سایوں میں
چھپا بیٹھا جو شاہکار تھا
مضطرب نظر کی بے چینیوں میں
اسی تصویر کا عکس نمودار تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
اس بے چین روح کو قرار آیا
بھٹکتی روح نے سکوں پایا
تم کون ہو کہ جس کے زندگی میں آنے سے
زندگی نے تکمیل کا احساس پایا تھا
میری ذات کا ادھورا پن میری حیات کا ادھورا پن
جسے دیکھ کے شرمایا تھا
اس ادھورے سائے نے وجود پایا تھا
تم کون ہو کہ جسے دیکھ کر
دل میں یہ خیال آیا تھا
قدرت نے تمہیں میرے لئے
مجھے تمہارے لئے بنایا تھا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی







