تمکو کھونے سے ڈرتے ہیں
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK تمکو کھونے سے ڈرتے ہیں
تنہا ہونے سے ڈرتے ہیں
پیار کرتے ہیں تم سے۔
اظہار کرنے سے ڈرتے ہیں۔
تم ہی ہو یار زندگی اپنی۔
تم کو کھونے سے ڈرتے ہیں۔
کیسے الگ ہو جائیں کس طرح؟
کہ جدا ہونے سے ڈرتے ہیں۔
کہیں ہو نہ جائو تم نالان۔
اف ! بھی کرنے سے ڈرتے ہیں۔
ھے جنون تیرے عشق کا۔
پر دیوانہ ہونے سے ڈرتے ہیں۔
وقت رخصت کا آہ! وہ لمحہ۔
یاد کرنے سے ڈرتے ہیں۔
زندگی جینا تجھ بن سہل نہیں۔۔۔
اسد تیرے بچھڑنے سے ڈرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






