چلو ہم تم کہیں اور جا ٹہریں
Poet: چلو ہم تم کہیں اور جا ٹہریں درخشندہ By: Darakhshanda, Huston چلو ہم تم کہیں اور جا ٹہریں
ہے بڑی مشکل اس دیار میں
نہیں مخلص اب کوئ پیار میں
ہے جُل بڑا اب اس سنسار میں
بدلتے لوگ پل کی تکرار میں
نہیں لاج اب کسی بھی اظہبر میں
نہ ہی اعتبار کسی قول و اقرار میں
کہیں بات اپنی بدل نہ جاۓ تکرار میں
بے مول زندگی اس اندھیار میں
ہیں ہم تم بھی جی رہے اس حصار میں
ہیں پھر ہم یہ کس انتظار میں ؟
کہیں کھو نہ جایئں ہم اس کج دھار میں
چلو ہم تم کہیں اور جا ٹھریں
ہے بڑی مشکل اس دیار میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






