تمھارے بعد بھی کچھ دن ھمیں سہانے لگے
Poet: M.Z By: M.Z, karachiتمھارے بعد بھی کچھ دن ھمیں سہانے لگے
پھر اس کے بعد اندھیرے دیے جلانے لگے
چمک رھا تھا وہ چاند اور اس کی محفل میں
سب آنکھیں، آئینے، چھرے شراب خانے لگے
خلا میں تھا کہ کوئی خواب تھا کہ خواھش تھی
کہ اس زمین کے سب شھر شمیانے لگے
نہ جانے کون سے سیارے کا مکین تھا رات
کہ زمیں و زماں سب مجھے پرانے لگے
فضہ شام، سمندر، ستارے جیسے لوگ
وہ بادبان کھلے، کشتیاں چلانے لگے
بس ایک خواب کی مانند ھے غزل میری
بدن سنائے اسے روہ گنگنانے لگے
ھزاروں سال کے انسان کا تجربہ ھے جو شعر
تو پل میں کیسے کھلے وہ جسے زمانے لگے
سیا رات کی حد میں اگر نکل آئی
دیے کے سامنے خورشید جگمگانے لگے
ھر اک زمانہ زمانہ ھے میر صاحب کا
کہا جو ان نے تو ھم بھی غزل سنانے لگے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






