ریط اس نگر کی ھے اور جانے کب سے ھے؟
Poet: M.Z By: M.Z, karachiتتلیوں کے موسم میں نوچنا گلابوں کا
ریط اس نگر کی ھے اور جانے کب سے ھے؟
دیکھ کر پرندوں کو باندھنا نشانوں کا
ریط اس نگر کی ھے اور جانے کب سے ھے؟
شھر کے یہ باشندے نفراتوں کو بو کر بھی
انتظار کرتے ھیں فصل ھو محبت کی
چھوڑ کر حقیقت کو ڈھونڈنا سرابوں کا
ریط اس نگر کی ھے اور جانے کب سے ھے؟
اجنبی فضاؤں میں اجنبی مسافر سے
اپنے ھر تعلق کو دائمی سمجھ لینا
اور جب بچھڑ جانا مانگنا دعاؤں کا
ریط اس نگر کی ھے اور جانے کب سے ھے
تم ابھی نئے ھو نا اس لیے پریشان ھو
آسمان کو اس درجہ حیرت سے مت دیکھو
آفتیں جب آتی ھیں ٹوٹنا ستاروں کا
ریط اس نگر کی ھے اور جانے کب سے ھے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






