تمھارے نام
Poet: Ali Raza jaan By: Ali Raza jaan, kamokeمیری تمام غزلوں کا ھر ھرف تمھارے نام
دل تو دے ہی چکے تھے اب جاں بی تمھارے نام
مدتوں سے منتظر ھیں تیری اک شام کے ھم
اپنی تو صدیوں سے ھے ھر صبح و شام تمھارے نام
تم نے تو کبھی لب ھلانا بھی گنوارا نا کیا
میری تو قوت تقلم تک ھے نام
جب تم کو دیکھا تو دیکھتے ھی فیصلہ کر ڈالا
رضا زندگی کا اب ھر پل تمھارے نام
تم کو چاھا ھے تم کو چاھیں گے اور چاھتے ھی رھیں گے
تم کسی اور کو چاھو اپنی تو چاھت ھے تمھارے نام
اس پل کا منتظر ھوں صدیوں سے
جب تم کہو گی رضا ھم تمھارے نام
تھک چکا ھوں،ھار چکا ھوںایس پل کے انتظار میں
خدا کے واسطے اب تو کہہ دو رضا ھم تمھارے نام
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






