ہلکی سی مسکان
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTکانوں میں بالی کیا غضب ہے
ہائے چال نرالی کیا غضب ہے
پھول سا جوبن اور اس پر
حسن کی بحالی کیا غضب ہے
دو نین ہیں شراب کے پیا لے
اور عمر یہ بالی کیا غضب ہے
یہ سرخی مائل قمیض آپ کی
اور اوپر چنری کالی کیا غضب ہے
یہ نیچی نگاہیں ہلکی سی مسکان
اور گا لوں کی لا لی کیا غضب ہے
عاشقوں کے دل لو ٹنے کے لیے
یہ صورت مثا لی کیا غضب ہے
خدا کا کرشمہ ہے کہ جس نے
یہ مو رت بنا لی کیا غضب ہے
کسی سمت بھی کوئی کمی نہیں
ہر انگ جما لی کیا غضب ہے
حسن محبوب کی زما نے میں امتیاز
یہ شان عا لی کیا غضب ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






