تمہاری جستجو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Kuala Lampurتمہاری جستجو ہوتی رہے گی
ہمیں یہ آرزو ہوتی رہے گی
جوانی ہر قدم پر دشمنوں میں
بڑی بے آبرو ہوتی رہے گی
نہ چھوڑا شہر تو اس بے وفا کی
نظر تو روبرو ہوتی رہے گی
کسی کو مستقل اپنا بنا لے
بڑی بدنام تُو ہوتی رہے گی
زمانے بھر میں اپنی دوستی کی
ہمیشہ گفت گو ہوتی رہے گی
اسی بارود سے ہم کو یقیں ہے
یہ دھرتی بے نمو ہوتی رہے گی
ہمیں جو ملی ہے کٹی زندگانی
کیا وشمہ رفو ہوتی رہے گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






