فکر ہجر نےکس کے اشارے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Kuala Lampurفکرِ ہجر نے کس کے اشارے پہ لکھ دیا
قسمت کا کھیل اپنے ستارے پہ لکھ دیا
یہ دیکھ کر کہ رات سے دریا اداس ہے
لہروں نے میرا نام کنارے پہ لکھ دیا
دشمن بھی لوٹ آئے مجھے پھر خریدنے
میں نے جو خود کو آج خسارے پہ لکھ دیا
ہر کوئی پڑھ رہا ہے مرا حالِ دل یہاں
کیا کیا یہ زندگی کے شمارے پہ لکھ دیا
پھر تُو بھی ڈھونڈے گا مرے نام و نشان کو
اینٹوں کے درمیان جو گارے پہ لکھ دیا
وشمہ خلوص و پیار کا عالم تو دیکھئے
بچوں نے میرا نام غبارے پہ کھ دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






