تمہاری یاد کا یہ سلسلہ رہا ہے کوئی

Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیا

غبارِ راہ میں اب بھی بلا رہا ہے کوئی
نجانے کیوں وہ بہت یاد آ ر ہا ہےکوئی

مجھے امید کہ مہکے گا میرا پھر آنگن
تمہاری یاد کا یہ سلسلہ رہا ہے کوئی

عجیب بات ہے وہ آج پھر نہ پڑھ سکے
مری وفا کا یہی تو صلہ رہا ہے کوئی

تری گلی میں نہ جاؤں گی کون کہتا ہے
تری گلی کا یہ جھگڑا مٹا رہا ہے کوئی

کوئی بتائے کہ سپنے وہ کیسے چور ہوئے
درِ حیات میں اترا سجا رہا ہے کوئی

رہو گے جس کے اندھیروں میں روشنی بن کے
وہی چراغ تمھارا بجھا رہا ہے کوئی

یہاں تو لوگ بچھڑتے ہیں عمر بھر کے لیے
ہزار بار کسی کا دغا رہا ہے کوئی

غریبِ شہر تو گمنام مر گیا وشمہ
امیرِ شہر ہی تو یہ خفا رہا ہے کوئی

Rate it:
Views: 457
29 Sep, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL