تمہارے محبت نامے

Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabia

تمہارے محبت نامے
جنہیں پڑھ کر
میرے دل کی دھڑکنیں
تیز ہو جاتی تھی
میرے دل کی وادی میں
اک گلشن کھل جاتا تھا
جہاں تتلیوں کا رقس چلتا تھا
جہاں فضایئں جھوم ُاٹھتی تھی
جہاں خزاوں میں بھی بہار آتی تھی
جہاں قدم قدم پے گلاب ہوتے تھے
جہاں دلکش حسین خواب ہوتے تھے
جہاں خاموشیوں میں
چھپے بہت سے راز ہوتے تھے
جہاں اک پل صدی لگتا تھا
جہاں جدائی کا
اک لمحہ قہر لگتا تھا
ہاں وہی محبت نامے
جنہیں پڑھ کر میں خوش ہوتی تھی
مگر آج اک مددت کے بعد
ُانہیں پھر پڑھا میں نے
مگر یہ کیا کہ آج
میری دھڑکن ویسے ہی سنسان رہی
میرے لبوں پے ُ
اداسی ہی مہربان رہی
ہاں اک اشک میری آنکھوں سے
نکل کر نجانے کب
ُان حسین خطوں پے گر گیا
جہاں ہر جگہ پے تم نے لکھا تھا کہ
لکی !اب تم بن جیا نہیں جاتا

Rate it:
Views: 430
10 Dec, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL