ناگریز حسرتوں کو سزائیں تم نے دی تھی
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiناگریز حسرتوں کو سزائیں تم نے دی تھی
وہ بھٹکا مسافر جسے ادائیں تم نے دی تھی
کوئی ستارا بن کے عرش میں اٹکا ہی رہا
دو آنسو بہاکر یہ دعائیں ہم نے دی تھی
ایک نگاہ اٹھنے پر میں نے دل دے دیا
پھر تیرے اشکوں سے وفائیں ہم نے کی تھی
توُ تَو منزلوں تک قیام ہی طلب کرتی رہی
مگر تیری جستجو کو آنکھیں ہم نے دی تھی
نہ تھی نوید کوئی تو رات بھر سکوں تو تھا
اس طرح میری نیند کو کروٹیں کس نے دی تھی
او قیاس کا وحشی! اب کیا حق بات کہیں
کہ پُر آشوب میں آشائیں ہم نے رکھی تھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






