تمہیں مجھ سے ہوں شکایتیں تو خوشی خوشی گلہ کرو

Poet: ISHTIAQ KAZMI By: WAQAS SHAH, rawalplindi

تمہیں مجھ سے ہوں شکایتیں تو خوشی خوشی گلہ کرو
جو بیت گئے دن پیار کے انہیں واسطوں سے ملا کرو

یہ سمجھ سکوں یہ جان سکوں کہ ہوں کس جرم میں پڑا ہوا
میں لکھوں سوال تو جواب میں میری خطا بھی لکھا کرو

میں چاہتا ہوں تم بھی ڈوب کر اک اور جرم میرے سر کرو
یہ جو اٹھتی موجیں ہو دیکھتے انہیں غور سے سنا کرو

اس غم کی ہیں جو عنایتیں کبھی جان لو تو نہ جا سکو
جو کہوں تو اس کو سنا کرو جو لکھوں تو اس کو پڑھا کروں

میری بات پہ ذرا غور کرو کہ ہجر کی کم ہوں مشکلیں
وقت رخصت نہ مجھ کو بار بار مڑ مڑ کے دیکھا کرو

بڑی دور ہیں اب بھی منزلیں بڑا رستہ پر خار ہے
بن کر گرمی جذبات تم میرا جسم جسم آبلہ کرو

یہ حسن نظر کمال تھا کہ ہم ساعتوں میں راکھ ہوئے
کبھی دیکھو شمع کو مضطرب تھوڑا ذکر میرا کیا کرو

کبھی ہو کے مضطرب سوچنا کہ کون تھے تیرے آشنا
یہ تیری گلی کے جو ہیں گدا ذرا ان کے پاس رکا کرو

اشتیاق اپنی حالت زار پر تیرا احساس کیوں ہے مر گیا
اب صنم خانے کو چھوڑ دو اور حرم میں خدا خدا کرو

Rate it:
Views: 709
27 Apr, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL