تمہیں محبت نہیں ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreتم کیسی مجبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت میں کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا
اور تن ہر چیز ہر بات کا حساب کتاب رکھتے ہو
تم کیسی مجبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت میں سود و زیاں کوئی نہیں سوچتا
اور تم ہر وقت سود و زیاں کی بات کرتے ہو
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت میں تو سب اچھا ہی دکھائی دیتا ہے
اور تم محبت میں اچھائیاں اور برائیاں تلاش کرتے ہو
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
تم کہتے ہو تمہیں محبت ہے
اور محبت ہو تو بن کہے بھی ظاہر ہو جاتی ہے
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت کی خوشبو روح و جسم کو مہکاتی چلی جاتی ہے
اور مجھے تمہارے وجود سے محبت کی خوشبو نہیں آتی ہے
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت کی آنکھوں سے اپنائیت جھلکتی ہے
اور تمہاری آنکھوں میں اجنبیت کے سائے لہراتے ہیں
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت کسی دلیل کی محتاج نہیں ہوتی
اور تم محبت کے لئے بھی دلیل طلب کرتے ہو
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
محبت کی فطرت میں ٹوٹنا اور جھک جانا ہوتا ہے
اور تمہیں تو ٹوڑنا اور جھکانا اچھا لگتا ہے
تم کیسی محبت کرتے ہو
تمہیں محبت نہیں ہے
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔






