تمہیں محبت ہوئی کسی سے

Poet: Abdul Waheed(Muskan) By: Abdul Waheed(Muskan), Haripur

ہمارے دل نے
تمہیں بھلانے کی ٹھان لی ہے
مگر یہ ممکن ہی کس طرح ہے تمہیں بھلا دیں
ہماری پلکوں کی چلمنوں میں تمہارا چہرہ چُُُُُھپا ہے
تمہیں جو دیکھا
ہماری دھڑکن کے تار باجے
کھنن کھنن چُُُُوڑیاں پُُُُکاریں
چھنن چھنن پائلوں نے چھیڑا، فضائیں جھومیں
ہتھیلیوں کو حنا نے چوما تو چومتی ہی چلی گئی
یہ زُُُلف گیندے کی خوشبوؤں میں رچی بسی ہے
تمہیں جو دیکھا
ہوا نے سرگوشیوں میں پوچھا
ہو کھوئی کھوئی سی تم کس لیئے
گلاب جیسا تمہارا چہرہ کیا ہے کس نے
یہ تھرتھراتے سے ہونٹ کیسے ہوئے گلابی
تمہارے ماتھے پہ اوس چمکی ہے کیوں اچانک
تمہارے دل کی دھڑک دھڑک میں
کسی کے ہاتھوں کی دستکوں کی ہے تھاپ شامل
یہ بات بہ بات چونک اُُُُُٹھتی ہو کِِِِس لئے تم
سنو،ستاروں سے تم کو باتوں کی خُُُُُُو پڑی ہے بتاؤ کب سے
یہ کب سے تم نے دیے دَََریچے پہ رکھ کے جگنے کی ٹھان لی ہے
سنو سہیلی چھپا رہی ہو
تجھے سوچنا چھوڑ رکھا ہے ہم نے
تجھے سوچنا چھوڑ رکھا ہے ہم نے

Rate it:
Views: 607
10 Nov, 2010
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL