تمہیں ملنے کو ترستے ہیں

Poet: M.Asghar By: M.Asghar, BIRMINGHAM

میری آنکھوں سے گر آنسو برستے ہیں برسنےدو
تمہیں کیا گر یہ ملنے کو ترستے ہیں ترسنے دو

میرے دل سے تم کو بیرکیوں ہے یہ تو بتلا دو
بلا سے میرے دل کے زخم رستے ہیں رسنے دو

علاج زخم دل تم کو ہی کرنا ہے چلے آؤ
ستم کے تیر گر ہم پر برستے ہیں برسنے دو

ہمارے حوصلے دیکھو اسیری میں بھی ہنستے ہیں
بچھاؤ جال تم اپنے جو ہم پھنستے ہیں پھنسنے دو

وفا شیوہ ہمارا ہےوفا ہم کرتے رہتے ہیں
ہمارے حال پر گر لوگ ہنستے ہیں ہنسنے دو

محبت کی عدالت میں ہماری پیشی کیا ہو گی
ہمارے نام کے پرچےگر کٹتے ہیں کٹنے دو

تم کو ہی چاہ ہے فقط تم کوئی چاہیں گے
جو لوگ ہماری محبت سے جلتے ہیں جلنے دو

تیری فرقت نے دیوانہ بنا ڈالا ہے اصغر کو
یہ دن ناگ بن بن کر ڈستے ہیں ڈسنے دو

Rate it:
Views: 1018
06 Feb, 2009
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL