تنہائی کا سادہ حل ہے، کھڑکی کھول دو راتوں کو
Poet: Anwar Kazimi By: Anwar Kazimi, Mississauga, Canadaتنہا ئی کا ساد ہ حل ہے ، کھڑ کی کھو ل دو ر اتو ں کو
ہو ا اُڑ ا کر خو د لائے گی بھو لی بسری یادو ں کو
موسم خا لی ہاتھ آ یا ہے بھو کی پیاسی دَھر تی تک
خا ک پڑے کھلیانوں پہ او ر آ گ لگے برساتو ں کو
لوگ تو چہرہ دیکھ کے پیارے دل کا حال بتاتے ہیں
چا ہے لا کھ چھپائے رکھو درد بھری سوٕ غاتوں کو
کس نے کس سے پیار کیا اور کس نے دنیا داری کی
چھو ڑو انو ر جانے بھی دو اِ یسی و یسی با تو ں کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






