تو آئینہ ھے مجھ کو تیرا خیال رکھنا ھے

Poet: MZ By: MZ, karachi

تو آئینہ ھے مجھ کو تیرا خیال رکھنا ھے
کھیں تو ٹوٹ نہ جائے تجھے سنبھال رکھنا ھے

ھر اک مسئلے کا تیرے حل نکال رکھنا ھے
زھانت سے اپنی تجھے حیرت میں ڈال رکھنا ھے

گر جو کبھی تو ترک تعلق کی بات کرے
روک کر تجھے کل پہ ٹال رکھنا ھے

تیرے درد کو چن لینا ھے پلکھوں سے اپنی
تیرے واسطے خود کو نڈھال رکھنا ھے

نھیں ڈوبنے دینا تجھے دکھ کے دریا میں
تیرے وجود کی ناؤ کو اچھال رکھنا ھے

بلاؤں کو تیری دعاؤں سے روک لوں اپنی
تیرے چار سو اپنے ھاتھوں کی ڈھال رکھنا ھے

سناؤں ایسی دھن کہ نہ ھو تجھ کو کبھی طلب
اپنی ھنسی میں وہ منفرد کمال رکھنا ھے

نہ ھو جائے کبھی تجھ کو میرے رو برو ندامت
تیرے سامنے ھمیشہ آسان سوال رکھنا ھے

بچھڑ کے مجھ سے نہ جائے تو دنیا کی ٹوکرں میں
تجھ کو اپنے پاس رکھ کر لازوال رکھنا ھے

کھو نہ جائے تو زندگی کے اندھیروں میں کھیں
تیرے واسطے اجالوں کو غلام رکھنا ھے

رھا منتظر اس کا تو دھوپ میں اھل وفا
وہ جب لوٹے تو چھاؤں کو نکال رکھنا ھے

Rate it:
Views: 753
13 Sep, 2011
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL