دل کی بستی تیری یادیں تو اور میں

Poet: اےبی شہزاد By: Ab Shahzad, Ali wah

دل کی بستی، تیری یادیں، آنکھ میں پانی، تو اور میں
وقت کی اس دہلیز پہ ٹھہری ایک نشانی، تو اور میں

شام کا منظر، الجھا رستہ، ایک کہانی، تو اور میں
یاد کا جگنو، خاموش ہوا، رات سہانی، تو اور میں

دور افق پر ڈوبتا سورج، پھیلتی سرخی چار طرف
خواب کی کشتی، نیند کا دریا، موجِ روانی، تو اور میں

پھول مہکتے، چاند چمکتا، رات غزل سی لگتی تھی
دل کی دنیا، پیار کی خوشبو، عہدِ جوانی، تو اور میں

برکھا رُت میں بھیگے لمحے آج بھی دل میں زندہ ہیں
بوند کا نغمہ، مٹی کی خوشبو، یاد پرانی، تو اور میں

لوگ نئے تھے، شہر نیا تھا، لیکن دل تنہا ہی رہا
اپنی غربت، اپنی وفا کی ایک کہانی، تو اور میں

عمر کے صحرا میں شہزادؔ یہ کتنے موسم بیت گئے
باقی ہے بس ایک تصور، ایک روانی، تو اور میں

Rate it:
Views: 0
27 Jun, 2026
More Love / Romantic Poetry