تو اچھا ہوتا

Poet: anam By: anam, karachi

تیرے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہوتا تو اچھا ہوتا
تجھ سے زندگی بھر کا ساتھ ہوتا تو اچھا ہوتا

تیرا دل بھی میرے دل کی طرح بے قرار رہتا
تیرا بھی میرے جیسا حال ہوتا تو اچھا ہوتا

توں بھی مجھے چاہتا مجھ سے محبت کرتا
وللہ اگر یہ کمال ہو جاتا تو اچھا ہوتا

جتیے تو ہم بس ایک دوسرے ہی کیلئے
عشق اپنا لازوال ہوتا تو اچھا ہوتا

بھلے ہی مجھے غم ملتے زندگی سے
توں بھی شامل حال ہوتا تو اچھا ہوتا

عاشقوں میں ہوتا ہمارا بھی شمار
عشق ہمارا بے مثال ہوتا تو اچھا ہوتا

رشک کرتے لوگ ہماری محبت پر
اپنے عشق کا ایسا جمال ہوتا تو اچھا ہوتا

ہو جاتا میرا بھی آنگن روشن روشن
اگر توں میرے گھر کا ہلال ہوتا تو اچھا ہوتا

تیرے بغیر جینا مجھے گوارہ نہیں
خود سوزی حلال ہوتا تو اچھا ہوتا

توں آتا میری قبر پر آنسوؤں ساتھ
میری بےوفائی کا تجھ کو ملال ہوتا تو اچھا ہوتا

خداوند توں عشق بنایا ہی کیوں بھلا
ہر لب پر نا یہ سوال ہوتا تو اچھا ہوتا

Rate it:
Views: 785
19 Feb, 2014
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL