تو روئے گی تو میری جاں تجھے ہنساؤں گا(گیت حصہ دوم)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanلڑکا
۔۔۔۔۔۔
کبھی جو مجھ سے خفا ہو گی میں مناؤں گا
تو روئے گی تو مری جاں تجھے ہنساؤں گا
میں پیار سے ترے بالوں میں ہاتھ پھیروں گا
لگا کے سینے سے پلکوں کو تیری چوموں گا
قسم ہے پیار کی دلہن تجھے بناؤں گا
تو روئے گی تو مری جاں تجھے ہنساؤں گا
رہا یہ وعدہ کبھی کوئی غم نہ دوں گا تجھے
ہمیشہ دل میں محبت لیے ملوں گا تجھے
ترے لیے میں سدا پھول لے کے آؤں گا
تو روئے گی تو مری جاں تجھے ہنساؤں گا
کریں گے باغ میں سیریں بھی اور جاگنگ بھی
کراؤں گا میں تجھے ہوٹلنگ بھی ، شاپنگ بھی
ہاں چٹ پٹی سی تجھے چاٹ بھی کھلاؤں گا
تو روئے گی تو مری جاں تجھے ہنساؤں گا
سلاؤں گا تجھے بانہوں میں میری شہزادی
رہیں گے ہو گی جہاں حسن و عشق کی وادی
اے ناز والی ترے ناز سب اٹھاؤں گا
تو روئے گی تو مری جاں تجھے ہنساؤں گا
کبھی جو مجھ سے خفا ہو گی میں مناؤں گا
تو روئے گی تو مری جاں تجھے ہنساؤں گا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






