تو پھر “ میری جان “ کوئی کیونکر
Poet: Dr Qamar Siddiqui By: Dr Qamar Siddiqui, Kharianوہ مجھ پہ احسان کر رہا تھا
میرے لئی اپنا پیار لکھ کر
حروف نا پائیدار لکھ کر
“خیال“ جانا تو اس سے کہنا
کہ پیار کے “پ“ سے لے کے “ر“ تک
میں مانتی ھوں
جتنے قصے ھیں خوبصورت ھیں
جتنی باتیں ھیں دلنشیں ھیں
حروف جتنے ھیں آتشیں ھیں
مگر
میں یہ بھی تو جانتی ھوں
یہ دلکشی ساری خوشنمائی
جو خیرہ کرتی ھے دل لبھاتی ھے
چند لمحوں کی روشنی ھے
تو پھر “ میری جان “ کوئی کیونکر
چند لمحوں کی روشنی سے
دل لگائے
غم اٹھائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






