ھمارے قصے ، ھماری باتیں ، جو یاد آئیں تو رو نہ دینا
Poet: Dr Qamar Siddiqui By: Dr Qamar Siddiqui, Kharianھمارے قصے ، ھماری باتیں ، جو یاد آئیں تو رو نہ دینا
اداس لمحے ، اجاڑ راتیں ، اگر ستائیں تو رو نہ دینا
باغباں سے نظر بچا کے بھاگنا تتلیوں کے پیچھے
بچپنے کی حسین یادیں ، اگر رلائیں تو رو نہ دینا
افق کی آنکھیں بھی سرمگیں ھوں، ھوا بھی برکھا کی چل رہی ھو
کلائیوں میں امید گجرے جو سوکھ جائیں تو رو نہ دینا
بارشوں میں بھیگے لمحے ہمارے سنگ جو گذارے جاناں
وہ خواب لمحے ، عذاب لمحے ، جو جی جلائیں تو رو نہ دینا
زخم سینے کی دے رہے تھے ، صداؤں پر جو صدائیں جاناں
چاک داماں کی دھجیاں وہ اگر اڑائیں تو رو نہ دینا
قمر پگلے تو جن کے وعدے پہ سر راہے کھڑا ھوا ھے
تیرے یقیں کا وہ خوں بہائیں اگر نہ آئیں تو رو نہ دینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






