توبہ توبہ
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillقیامت ہی قیامت ہوبہو ۔ توبہ توبہ
آئینہ اور تیرے روبرو ۔ توبہ توبہ
پھول کھل کھل کے سب بکھرنے لگے
ایسی یلغار ہوئی کوبکو ۔ توبہ توبہ
ہاتھ اپنے ہی گریباں پہ کبھی آگہی پہ
ایسی بے ڈر تمہاری جستجو ۔ توبہ توبہ
صبح پرنور جا گی یا تیری اٹھی پلکیں
رند بھی کرنے لگے ہیں وضو ۔ توبہ توبہ
کہاں شمع میں اتنی تاب کہ دھیرے پگھلے
ہائے پروانے تیری آرزو ۔ توبہ توبہ
وہ دل کا پوچھنا جناب سے رشتہ خود کا
وہ کہنا “تیری رگوں کا لہو“ توبہ توبہ
ہم اہل ارض بھی شوق و شعور رکھتے ہیں
چاند تاروں سے تیری گفتگو ۔ توبہ توبہ
جو بھی ہے حرف و معانی سے ماورا ہے کچھ
غزل ہے ۔ نظم ہے ۔ کہ صرف تو ۔۔ توبہ توبہ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






