تمہیں وہ لفظ کہنا ہے۔۔۔ ہمیں اک ساتھ رہنا ہے

Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hill

زمانے کی اداؤں کو
محبت کی جفاؤں کو
پہاڑوں سی اناؤں کو
زخم دیتی ہواؤں کو
ہمیں اک ساتھ سہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
محبت کا نشاں بن کر
عقیدت کی زباں بن کر
ارادوں کا جہاں بن کر
امنگوں کی اماں بن کر
خزاؤں سے بھی کہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
جنوں ہم سے وفا ہم سے
سمے کی ہر ادا ہم سے
گلابوں میں حیا ہم سے
کتابوں میں ندا ہم سے
یہی جذبوں کا گہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
جو اک آنچل سا چھایا ہے
جسے تم نے اڑایا ہے
ترنگوں میں سما یا ہے
بہت کرنوں کو بھایا ہے
یہی موسم نے پہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
ہمیں جگنو پکڑنے ہیں
ہمیں کچھ رنگ بھرنے ہیں
ابھی کچھ دیپ جلنے ہیں
ابھی تارے بکھرنے ہیں
ابھی پلکوں سے بہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
جسے روکا ہے بختوں نے
جسے سمجھا تختوں نے
جسے گایا ہے بھگتوں نے
پرندوں نے درختوں نے
تمہیں وہ لفظ کہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہناہے

Rate it:
Views: 780
06 May, 2012
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL