تمہیں وہ لفظ کہنا ہے۔۔۔ ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillزمانے کی اداؤں کو
محبت کی جفاؤں کو
پہاڑوں سی اناؤں کو
زخم دیتی ہواؤں کو
ہمیں اک ساتھ سہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
محبت کا نشاں بن کر
عقیدت کی زباں بن کر
ارادوں کا جہاں بن کر
امنگوں کی اماں بن کر
خزاؤں سے بھی کہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
جنوں ہم سے وفا ہم سے
سمے کی ہر ادا ہم سے
گلابوں میں حیا ہم سے
کتابوں میں ندا ہم سے
یہی جذبوں کا گہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
جو اک آنچل سا چھایا ہے
جسے تم نے اڑایا ہے
ترنگوں میں سما یا ہے
بہت کرنوں کو بھایا ہے
یہی موسم نے پہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
ہمیں جگنو پکڑنے ہیں
ہمیں کچھ رنگ بھرنے ہیں
ابھی کچھ دیپ جلنے ہیں
ابھی تارے بکھرنے ہیں
ابھی پلکوں سے بہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے
جسے روکا ہے بختوں نے
جسے سمجھا تختوں نے
جسے گایا ہے بھگتوں نے
پرندوں نے درختوں نے
تمہیں وہ لفظ کہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہناہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






